فیل بان

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ہاتھی کا رکھولا، ہاتھی بان، مہاوت۔ "سیّد کو چارو ناچار فیل بانوں کے ساتھ دوستی رکھنی پڑتی ہے۔"      ( ١٨٨٩ء، لیکچروں کا مجموعہ، ١٦٧ )

اشتقاق

عربی سے ماخوذ اسم فیل کے بعد فارسی سے ماخوذ لاحقہ صفت 'بان' لگانے مرکب بنا۔ جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٨٥٤ء کو "دیوانِ ذوق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہاتھی کا رکھولا، ہاتھی بان، مہاوت۔ "سیّد کو چارو ناچار فیل بانوں کے ساتھ دوستی رکھنی پڑتی ہے۔"      ( ١٨٨٩ء، لیکچروں کا مجموعہ، ١٦٧ )

جنس: مذکر